واقعہ ایک جیسا لگتا ہے

hammad abdullah

ناجانے میرے ملک کو کس کی نظر لگ گئی  ہے نظر بھی ایسی لگی کہ اسکو بھی اپنے ہونے پر دکھ و غم ہوتا ہے-ملک کی گنگا الٹی ہی بہتی جارہی ہے اور اسی گنگا میں میرے دیس کے لوگ دوسروں کو نیچا اور اپنے آپ کو طاقت ور دیکھانے میں لگے ہوۓ  ہیں کچھ تو اس باغ نما ملک کو اجھاڑنے اور اسکے پھولوں کو سرعام,دن کا اوجالا ہو یا رات کی تاریکی پاؤں تلے روند رہے  ہیں- اس باغ نما ملک کے کئی پھول اپنوں نے توڑے جن میں سے دو پھولوں کا احوال یاقصہ داستان جو ان کے ساتھ ہوا وہ بیان کرنا چاہ رہا ہوں جو واقعہ تو ایک جیسا لگتا ہے….
ساہیوال کے قریب جی ٹی روڈ پرگاڑی پر سوار عورت محرم و بچوں اور دوست کے ساتھ اپنی منزل پر جارہی تھی اچانک پھول توڑنے والے آئے انہوں نے ان گاڑی میں سوار مسافروں کو زیادتی کا نشانہ گولیوں سے بنایا وہ بھی بچوں کے سامنے-

اب بچوں کے علاوہ سب کو توڑ مروڑ کر سرعام ان کی زندگی کا پٹرول ختم کرگئے-انکو مارا اس لیے کہ ان میں سے ایک دہشت گرد تھا……..لیکن انکی حفاظت کرنے والے ,تحفظ دینے والوں نے اس موقعہ پر یہ نہیں کہا کہ دو مردوں کے ساتھ ایک عورت بچوں کے ساتھ دن کے اجالے میں نکلی کیوں, گھر سے باہر آئی ہی کیوں…

مختصر یہ کہ ان کی زندگی کا دیا گل کرنے والے آج بری الزماں ہیں….
“حالیہ واقعہ لاہور موٹروے پر عورت محرم کے ساتھ نہیں لیکن بچوں کے ساتھ تھی درندوں نے حملہ کیا اور عورت وبچوں کو اغواء کر کے عورت کے ساتھ زیادتی  کی بچوں کے سامنے –

اب اس واقعہ میں دن کا اوجالا نہیں رات کی تاریکی تھی. یہاں پر کہا گیا عورت اکیلی نکلی کیوں باہر گئی کیوں گاڑی کا پٹرول ختم و چیک کیا کیوں نہیں .. حالانکہ کوئی بے وقوف نہیں کہ وہ آدھی رات کو سڑک پر نکلے ہر کوئی کسی نا کسی کام کی غرض سے سڑک پر آتا ہے اپنی منزل کی طرف جانے کے لیے- 
اب جنہوں نے یہ بیان دیا ان سے پوچھا جائے کہ اگر تمہاری فیملی میں سے کسی کے ساتھ ہوا ہوتا تو پھر بھی یہ ہی کہتے- بیان دینے سے پہلے سوچنا چاہیے تاکہ بعد میں معافی نامانگنا  پڑے- غلطی تو ہوئی کہ سڑک پر آگئے لیکن نا ہم اکیلے محفوظ نا گروپ کی شکل میں- آپ کس کام کی تنخواہ لیتے ہو کیا یہ حرام یا کرپشن نہیں …پھر جاتے ہیں بزدل بن کر مظلوموں کے گھر زخموں پر نمک چھڑکنے.

میری مدینہ کے اصولوں کے طرز پر بننے والی ریاست ایسے کئی قصوں سے جل رہی….(بلدیہ فیکڑی ہو ,صحافیوں کاقتل, مشال قتل کیس ہو, عابدہ قتل, سیالکوٹ کے دو لڑکوں کا واقعہ,) کون کونسا بتاؤں میں آپ کو کشمیر سے کراچی اور گلگت و سکردو سے گوادر تک واقعات بھرے پڑے ہیں  اب ان واقعات سے سبق سیکھ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں اسطرح کے واقعات رونما نا ہوں اور اس طرح کے برے کام کرنے والوں کو سو کوڑے یا سنگھ سار یا پھر حاکم وقت سخت سے سخت سزا دینے کا حق رکھتا ہے قرآن و حدیث بھی ہمارے لیے ہدایت کا نمونہ ہیں-
دینی کتابوں سے علم حاصل کرکے یا ان کتابوں میں جو سزائیں لکھی ہوئی ہیں ان کو لاگو کرنا ہوگا تاکہ آنے والے وقت میں کوئی ایسا گھناؤنا کام نا کرسکے اور اس سے لوگ عبرت اور سبق حاصل کریں-

سخت سزاؤں کے نافذ کرنے سے امن امان کی صورتحال برقرار رہتی ہے اور ایسا برا فعل کرنے کی سوچ بھی پیدا نہیں ہوتی ہے-ارباب اختیار اس حوالے سے فوری اقدامات کریں اور جو واقعی ہے مجرم ہوتے ہیں انکو لوگوں کے سامنے سزا دیں تاکہ عبرت حاصل ہو-

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here