“گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی  تھی” (روحا اشفاق)

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی  تھی

کل شام  ہی  میں نے اقبال کا یہ شعر پڑھا۔

گنوا  دی ہم نے جو اسلاف سےمیراث پائی  تھی-

ثریا سے زمین پر آسمان نےہم کو دے مارا-
میں سوچ ہی رہی تھی کے یہ جو آج کل معاشرے کا حال ہے واقعی ہم نے سب کچھ گنوا دیا ہے ہر وہ چیز جو ہمیں ہمارے پیغمبروں سے ملی تھی وہ کہیں کھو گئی  ہے۔
سوچتے سوچتے  نہ جانے کب میری آنکھ لگ گئی  اور خواب میں یوں لگا جیسے کسی نے مجھے شاہراۓ حیات کے سفر پر روانہ کر دیا۔

بہت تاریکی تھی ٹھوکر کھائی

 آواز آئیاندھی ہو کیا؟ نظر نہیں آتا؟

میں نے پوچھا جس چیز سے ٹھوکر کھائی  وہ چیز کیا تھی؟ آواز آئی

جھوٹ کی گلی میں دھوکے کا پتھر

میں نے کہا تمہارے پاس تو حضرت ابوبکر صدیق کی صداقت کا چراغ تھا وہ صداقت کےجسکی مثال زمانہ دیتا تھا وہ کہاں گیا آواز آئی

گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے  میراث پائی  تھی۔

تھوڑا آگے  چلی تو میں نے دیکھا کے بنت حوا دوپٹے  کی دولت بیچ چکی ہے اور اقبال کے نوجوانوں کا اپنی نظروں پے قابو نہیں ہے وہ اس قدر دلدل میں پھنس چکے ہیں کے نہ ردا کی سرسراہٹ نہ گریباں کی چڑچڑاہٹ کوئی بھی طاقت انھیں اس دلدل سے باہر نکالنے کو کافی نہ تھی میں نے پوچھا تمہارے پاس تو حضرت عثمان غنی کی حیا تھی وہ کاں کھو گئی؟ آواز آئی

گنوا دی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی  تھی۔

  میرے  قدم اور آگے بڑھے تو ،میں نے دیکھا کے لمبی قطار ہے لوگ آپس میں لڑ رہے ہیں کوئی حق کے لئے آواز بلند کرنے کو تیار نہیں سب باطل کے آگے ہار چکے ہیں یہ معاملہ دیکھ کر میں گھبرا گئی کہا تمہیں تو حضرت علی کی بہادری وراثت میں ملی تھی وہ شجاعت کے جسکی قسم خدا کے محبوب خود اٹھاتے وہ کہاں کھو گئی؟ آواز آئی

 “گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے  میراث پائی تھی”

 میرے قدم آگے چلے راہ کافی لمبی اور دشوار تھی قدم قدم پے یہ برائیاں دیکھ کر میرے  قدم ڈگمگا رہے تھے کچھ فاصلے پے دیکھا کے بچے والدین کی عزت نہیں کر رہے انکے لئے دکھ اور تکلیف کا سبب بن گئے ہیں (یہ تو وہی تھے نا جنہیں انکی راحت کا سبب بننا تھا؟)

بڑوں کی بچوں کے لئے شفقت اور بچوں کی بڑوں کے لئے عزت سب کھو گئی  تھی میں نے پوچھا کے تمہارے پاس تو حضرت محمد کی ذات کا نمونہ موجود تھا نا جسے تم نے اپنا رہنما بنا کے اپنانا تھا وہ ذات کے جسکے اخلاق کی گواہی  خود خدا نے اپنی محبوب کتاب میں دی ہے وہ کہاں گنوا دیا؟ آواز آئی  

“گنوا دی ہم نے جواسلاف سے میراث پائی  تھی.”۔

آنکھ کھلی تو پیشانی پسینے سے شرابورتھی میرا تھ دل بس یہی کہ رہا تھا مجھ سے۔

“گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی  تھی”

تبھی تو

“ثریا سے زمین پر اسمان نے ہم کو دے  مارا”۔

تحریر
روحا اشفاق

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here