عذاب الہی….(حماد عبداللہ)

hammad abdullah

جب قوموں میں برے اعمال عام ہونے لگیں اور کسی ملک, کسی محلے یا قبیلے میں رہنے والے لوگ گناہ کو ثواب سمجھ کر کرنے لگیں تو اللہ ان کو مہلت دیتا ہے کہ میرے بندے برے کاموں سے منہ موڑ لیں اگر پھر بھی اللہ کے بندے برائی کو اپنا اوڑنا بچھونا بنا لیں تو اس وقت   انسان کو اپنا نائب قرار دینے والا, پوری دنیا کو تخلیق و پیدا کرنے والا اپنی ناراضگی کا اظہار اپنے بندوں کو آزمائشوں میں ڈال کر کرتا ہے-

پھر  عذاب نازل  کرتا  ہے اب عذاب بھی مختلف قسم کے ہوتے ہیں جو رب ناراض ہونے کی صورت میں اس قوم و قبیلے یا علاقے میں بھیجتا ہے جہاں گناہ زیادہ اور ظاہری اور اجتماعی طور پر ہونے لگ جائیں- ان عذابوں میں قحط سالی, نااہل حکمرانوں کا مسلط , بارش کاحد سے ذیادہ ہونا, سیلاب, زلزلے, سمندری طوفان, مہنگائی,ملاوٹ,زنا, وبائی امراض, ٹڈی دل کا فصلوں پر حملہ, فتنے فسادات, دشمنوں کا حاوی ہونا اور اس طرح کے عذاب جو قوموں نے پہلے دیکھے بھی نا ہوں – 

مسلمانوں پر جب بھی کسی علاقے یا ملک میں رہتے ہوئے عذاب آئے تو وہ انکے برے اعمالوں کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے چلا آ رہا ہے مسلمانوں کے علاوہ دوسری قوموں پر جن میں یہودی, عیسائی, بدھ مت, ودیگر قومیں جب سے ان کا وجود آیا دنیا میں اس وقت سے لے کر آج تک کسی نا کسی وقت قومیں عذاب الہی کی پکڑ میں آتی رہیں ہیں کچھ عذاب الہی کا یادہانی کے لیے ذکر کرتاجاؤں جو ماضی میں رونما و قوموں پر آئے تو حضرت نوح علیہ اسلام کی قوم پر پانی کا سیلاب آیا-

حضرت لوط علیہ اسلام کی قوم پر عذاب زمین کو الٹا کرکے ان کی قوم کو دفن کردیا گیا, اسی طرح حضرت یوسف علیہ اسلام کے دور میں مصر ودیگر علاقوں میں قحط سالی آئی, حضرت موسی علیہ اسلام کی قوم میں اللہ کی نافرمانی حد سے آگے بڑھ گئی اور اللہ نے کہا کہ مقررہ دن میں مچھلیاں پکڑنی ہیں دریا و سمندر سے اس کے علاوہ دنوں میں نہیں تو انہوں نے اللہ کے حکم کو نا مانا تو اللہ نے ان پر عذاب نازل کردیا اور تباہ وبرباد وغرک ہوگئے عذاب الہی کی نرمی میں حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم کی مہربانیاں  ہیں کہ انہوں نے دعا کی اے میرے رب, دنیا کو تخلیق اور کل کائنات کے رب و اللہ میری امت پر ایسے عذاب نا نازل کرنا جس سے میری امت غرق  ہوجائے اسکا نام ونشان نا رہے جیسے کہ پہلی قوموں پر نازل ہوا ایسا نا فرمانا تو اس وقت سے لے کر آج تک اللہ نے عذاب بھیجے لیکن اتنے سخت اور تباہ وبربادی والے نہیں جس میں امت محمدیہ ودیگر قومیں ایک ہی عذاب میں غرق  ہوکر ان کا نام صفہ ہستی سے مٹ جائیں- 

حال ہی دور کی بات کی جائے تو کرونا کی وبائی مرض جس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کئی انسان اس وبائی مرض کا شکار ہونے کے بعد موت کی وادی میں چلے گئے اور ابدی نیند سوگئے اور اس سے پہلے پوری دنیا نے دیکھا کہ جاپان پر سونامی سمندری طوفان آیا امریکہ میں طوفان آیا, ہر سال آسٹریلیا میں بھی اور امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا کے جنگلوں میں آگ بھڑک اٹھتی ہے جس سے بہت زیادہ نقصان ہوتا ہے

اس وقت پاکستان, انڈیاو دیگر ملکوں میں بارشوں کا سلسلہ جارہی جن کو پری مون سون کا سیزن کہتے ہیں ان ملکوں میں بے حیائی حد سے زیادہ, فراڈ, قتل عام, حق تلفیاں, بے حسی, زنا, نفسا نفسی کا عالم,فتنے فسادات, اپنے سے چھوٹی ذات و قوموں پر ظلم, اللہ کے احکامات کی خلاف ورزی مسلمانوں کی دین سے دوری و دیگر عوامل جن کی وجہ سے رب کائنات نے ان لوگوں پر حد سے زیادہ بارشوں کے برسنے کا عذاب آیا ہوا ہے جس کی وجہ سے کئی علاقہ زیرآب, لوگوں کے گھر تباہ, فصلیں برباد, انفراسٹکچر خراب اور دیگر معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہیں  حالانکہ ہر سال کسی نا کسی قوم و ملک پر عذاب آتے ہیں لیکن کسی نے ان عذابوں سے سبق حاصل نہیں کیا بلکہ زیادہ سے زیادہ برائی کا ارتکاب کرتے جارہے ہیں اللہ اپنے بندے سے ماں سے ستر فیصد یا اس سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کیسے چاہے گا کہ اپنے بندوں پر عذاب بھیجے لیکن انسان کے برے اعمالوں کی وجہ اللہ اپنے بندوں کو سبق سکھاتا ہے کہ وہ برے کاموں سے اجتناب کریں صحیح کام کریں-

مسلمان دین اسلام سے دور نا ہوں اللہ کے حکم کی پیروری کرتے رہیں. اللہ کی بندگی کرتے ہیں جیسے اللہ نے فرمایا ہے اس کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق زندگی گزاریں گناہ کو ثواب سمجھ کر نا کریں بلکہ گناہ کو گناہ اور اچھے عمل کو اچھا سمجھیں…. انسان ایک دوسرے کے ساتھ بھلائی کریں, حق تلفی نا کریں, یتیموں کا مال نا کھائیں, ایک دوسرے کو بے جا اور بے گناہ موت کی سولی پر مت چڑھائیں, صحیح اور صالح حکمرانوں کا چناؤ کریں ,پرامن اور پر سکون طریقے سے دنیا میں رہیں تو انسان عذاب الہی سے بچ سکتا ہے اور اپنے گناہوں کی دل جوئی اور صدق دل سے ہوکر اپنے  رب,اللہ سے توبہ کرے, بے شک اللہ اپنے بندوں کو معاف اور بخشنے والا ہے دور حاضر میں سب کو اپنے گریبان میں دیکھنا ہوگا اور اپنے کیے ہوئے گناہوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے مستقبل کے بارے میں سوچ وبچار کرنی ہوگی تاکہ دوبارہ عذاب الہی کی لپیٹ میں نا آجائیں-

لوگوں کے ساتھ ہمدری کریں ایک دوسرے کے دکھ درد کو اپنا سمجھیں اور بھلائی اور بردباری کا درس دیتے ہوئے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا ظاہری طور پر بھی اور اندرونی طور پر بھی دنیا کو ایک اچھی قوم اور انسان ہونے کا ثبوت دینا ہوگا-

اللہ ہم سب کا حامیوں ناصر رہے.. آمین

ازقلم……… حماد عبداللہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here