تانیہ ادروس اور ڈیجیٹل پاکستان (حقائق سے پردہ اٹھ گیا )

96
tania adroos

تانیہ ادروس اور ڈیجیٹل پاکستان (حقائق سے پردہ اٹھ گیا )
دوہری شہریت کی حامل خاتون تانیہ ادروس ،مشہور و معروف کمپنی گوگل میں ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز، وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کی التجا پر عہدے سے دستبردار ہو کر پاکستان تشریف لائیں۔یہ خبر نہ صرف پاکستان میں بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے تقریبا پوری دنیا میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔
5 دسمبر 2019 کو ڈیجیٹل پاکستان کی افتتاحی تقریب کے دوران کی جانے والی تانیہ ادروس کی تقریر نے تقریب میں موجود لوگوں کو نہ صرف حیران کیا بلکہ کافی لوگ ان کی تقریر سے متاثر ہوئے۔ تقریر کے دوران انھوں نے وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مجھے اس قابل سمجھا کہ میں پاکستان کے لیے اپنی خدمات برائے کار لاؤں۔
پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہونے والی تانیہ ادروس نے اپنی ابتدائی تعلیم اے لیول تک کراچی کے نجی سکول اور کالج سے حاصل کی۔ اعلی تعلیم کے حصول کے لئے بیس سال قبل غیر ملک کا رخ کیا۔ امریکہ کے شہر مانچسٹر میں موجود برینڈیس یونیورسٹی سے بی ایس سی کی ڈگری مکمل کی اور منچسٹر سکول آف ٹیکنالوجی سے ایم بی اے کرکے اپنی تعلیم مکمل کی۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک کمپنی سے اپنے کریئر کا آغاز کیا جس کا نام کلک ڈائگنوسٹک تھا۔ اس کمپنی کا مقصد تھا کہ دور دراز قصبے میں بسنے والے لوگ جو کہ صحت کے بنیادی حقوق سے نالاں ہے ہیں ان کو ڈاکٹر حضرات تک رسائی دی جائے۔ یہ منصوبہ اس وجہ سے کامیاب نہ ہوسکا کیونکہ اس دوران یعنی کے 2006 سے 2007 میں ہر شخص کو موبائل فون تک رسائی حاصل نہ تھی۔
اس کے بعد انہوں نے مشہور کمپنی گوگل کے ساتھ کام کرنا شروع کیا۔ جہاں پر انہوں نے مختلف سرگرمیوں میں حصہ لیا اور اپنے کام کو احسن طریقے سے انجام دیا۔ وہ بطور ٹیم ایگزیکٹو اپنے فرائض سرانجام دے رہی تھی،جب حکومت پاکستان نے ان سے رابطہ کیا اور وہ گوگل سے مستعفی ہو کر پاکستان آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ملک کے لیے کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ پاکستان کو ڈیجیٹلائز کرنے کے ان کے ارادے کو جانچا گیااور حوصلہ افزائی کی گئی۔ تانیہ ادروس کو ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کا ہیڈ مقرر کیا گیا۔ پاکستان میں ان کا یہ سفر 05 دسمبر 2019 سے 29 جولائی 2020 تک کا ہی تھا. اچانک سے ہیڈلائنز میں دیکھنے کو آیا کہ تانیہ ادروس اور ظفر مرزا جو کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کے طور پر انجام دے رہے تھے اپنے عہدے سے مستعفی ہو چکے ہیں۔
تانیہ ادروس نے اپنے استعفے میں جو الفاظ قلمبند کیے ان میں وجہ کچھ یوں بیان کی گئی کہ ان کی دوہری شہریت کی وجہ سے ان کے ڈیجیٹل پاکستان کے منصوبے کی مخالفت کی جارہی ہے اور طنز کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گی جب بھی ضرورت پڑی اپنی خدمات ملک کے لیے بروئے کار لاؤں گی۔اور بغیر کسی عہدے کے بھی پاکستان کی خدمت کرتی رہوں گی
جبکہ کچھ  اطلاعات کے مطابق  تانیہ ادروس ڈیجیٹل پاکستان پروگرام کے نام سے ایک اینجیو  چلا رہی ہیں جس کے ڈائریکٹرجہانگیر خان ترین  ہیں۔ این جی او کے لئے فنڈ جمع کرتے ہوئے کافی بے ضابطگیاں ہوئیں  ۔ یہ کہانی منظر عام پر آنے کے بعد خصوصی کمیٹی بنائی گئی اور تانیہ ادروس سے جواب طلب کیے گئے۔ تانیہ ادروس خود پر لگائے گئے الزامات کو جھوٹا ثابت کرنے میں ناکام رہیں اور عہدے سے مستعفی ہوگئیں۔ وزیر اعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ وہ یہ معاملہ ہرگز رفع دفع نہیں کریں گے اور جوابات طلب کرنے کے لئے کمیٹی تشکیل دیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here