کیا ہم نے عمر اکمل کو ضائع کر دیا؟؟

61
umar akmal

 “دنیا کی سب سے افسوسناک چیز بیکار ہنر ہے “
ایک ایسا کرکٹر جس نے 2009 میں سری لنکا کے خلاف اپنے کیریئر کا آغاز کیا  ، اس نے اپنے پہلے ہی میچ میں اپنا پہلا ون ڈے پچاس اسکور کیا  ، اس کے بعد اگلے ہی میچ میں ہوم گراؤنڈ سے دوری پر میڈن ون ڈے سنچری اسکور کی تھی۔ اپنے کیریئر کا آغاز تباہ کن اور کچھ شاندار مستقل مزاجی سے کیا۔نیوزی لینڈ کی گرین پچوں پر ہوم سے دور کیویز کے خلاف اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں اپنی پہلا نصف سنچری اور سنچری اسکور کی۔ کوہلی سے مقابلہ کیا جارہا تھا اور کہا گیا تھا کہ کوہلی سے زیادہ صلاحیت موجود ہے (کوہلی  جس نے اپنی پہلی سنچری کے لئے 14 میچ کھیلے)۔ آسٹریلو ی پچوں پر پیٹر سیڈل کو مارنے سے لیکر جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کے بالروں کی دھلائی کرنےکی وجہ سے ٹی ٹوئنٹی میں بے حد مقبول ہوئے
کیرئیر کے آغاز یعنی اچھے دنوں کی بات ہے ، وہ دیکھنے میں سب سے زیادہ دلچسپ بیٹسمین   لگے۔

لیکن اس کے بعد کیا ہوا؟

کسی نے اس طرف غور نہیں کیا ،  19،20 سال کےنوجوان  پر شہرت کا دباؤ تھا ، وہ سنبھل نہیں سکے ،یا بیٹنگ آرڈر کو نیچے گرانے سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ (جیسا کہ اس نے کئی بار اپنا  بیٹنگ آرڈر چینج   کرنے کے بارے میں بات کی۔) لیکن ایک یقینی بات یہ بھی تھی ، اس  کے  مزاج کی  خرابی  کے علاوہ اس  میں کوئی تکنیکی خرابیاں نہیں تھیں۔
یہاں کوہلی کی مثال موجود ہے ، جسے بی سی سی آئی نے اپنی سرپرستی میں پالش کیا اور اب وہ کرکٹ کی دنیا میں بڑے کھلاڑی ہیں۔ لیکن ہم نے عمر اکمل کے ساتھ کیا کیا؟ کیا ہمیں پولش اور اپنے کھلاڑیوں کو جوڑنے کی ضرورت نہیں ہے؟
خواہ عمر اکمل ہو یا محمد عامر یا محمد آصف اور اس کی ایک لمبی فہرست ہے۔

ہم واقعی ایک عجیب و غریب  منٹلیٹی   والی قوم ہیں جب کوئی ناکام ہوتا ہےتو ہم اس سے نفرت کرنے لگ جاتے ہیں اور جب ہم ایک بار نفرت کرنا شروع کردیتے ہیں تو ہم یہ  نہیں دیکھتے کے وہ یہاں تک کیسے پہنچا اس نے ایک عرصہ محنت کی اس مقام تک پہنچنے  کے لیے- 

یہ سچ ہے کہ اسے بعد میں بہت سارے مواقع فراہم کیے گئے لیکن وہ کسی کو بھی کیش نہیں سکا ، لیکن کسی نے اس طرف بھی توجہ نہیں دی کہ کیا غلط ہو رہا ہے اور اسکو کس  طرح درست کیا جائے ، ایک ایسا کھلاڑی ہے جو ڈومیسٹک میں ہمیشہ اول صفوں میں رہتا ہے لیکن انٹرنیشنل میں کھیل نہیں دکھاسکتا۔ لیکن بہت سارے ایسے بھی ہیں جو ناکام بھی ہوئے ، اس سے بھی زیادہ ناکام رہے لیکن ان کا معاملہ مختلف ہے ،   عمر اکمل کی ہر ایک  ناکامی کو ان کے ناقدین نے کھلے دل سے منایا ہے –

ہاں اکمل نے بہت ساری چیزیں کیں ، وہ فٹنس ٹیسٹوں میں ناکامی سے لے کر ڈسپلن کی خلاف ورزیاور  کیا کچھ  نہیں لیکن بہرحال وہ ایک اچھا کھلاڑی ہے اگر اس پر تھوڑی توجہ دی جائے تو اس کا مستقبل روشن ہے ۔ لیکن جو بھی کرکٹ کے بارے میں تھوڑی سی بھی سمجھ بوجھ رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ عمر اکمل کا اصل مسلہ ٹیلنٹ میں کمی نہیں اصل مسلہ اس کا رویہ ہے جس پر توجہ دے کر اس کے مستقبل کو بچایا جا سکتا ہے اس میں وہ صلاحیت موجود ہے جو کسی بھی بڑے کھلاڑی میں ہوتی ہے ۔

کرکٹ کی ہسٹری میں  ہم نے کامیابی کے ساتھ بہت ساری صلاحیتوں کو ضائع کیا صرف اس لئے کہ کوئی مشاورت نہیں ہے ، نوجوان کھلاڑیوں کی ذہنی صحت کے لئے کچھ نہیں کیا  ۔ یہ سوشل میڈیا کھلاڑیوں کے ساتھ بدعنوانی کو بھی روکنے کی ضرورت ہے -ہم  آج غور و فکر کر کے بہت سے اس طرح کے کھلاڑیوں کا مستقبل بچا سکتے ہیں  جو  آگے جا کر  پاکستان  کا  نام ہی روشن کرتے ہیں-

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here