کیا YouTube واقعی پاکستان میں بند ہونے والی ہے ؟؟؟

64
youtube

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بدھ کے روز ایک فرقہ وارانہ شخص شوکت علی کے کیس کی سماعت کے دوران پاکستان میں youtube پے پابندی عائد کرنے کا اشارہ دیا کیس کی سماعت جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس مشیر عالم کر رہے تھے ۔
جسٹس قاضی محمد امین اور جسٹس مشیر عالم نے سوشل میڈیا پر غیر منظم مواد پر
مسلح افواج پر اور حکومت پاکستان پر بے بنیاد تبصروں پر اعتراض کیا ہے۔
جسٹس امین نے ریمارکس دیئے کر ہمیں اظہار رائے سے کوئی اعتراض نہیں عوام کے پیسوں سے ہی ہمیں تنخواہوں دی جاتی ہیں اور انہیں ہمارے کام اور کارکردگی پے سوال اٹھانے کا بھی حق ہے لیکن آئین رازداری کا بھی حق فراہم کرتا ہے۔ جسٹس امین نے پاکستان ٹیلی مواصلات اتھارٹی (پی ٹی اے) اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)
سے پوچھا کہ کیا شوشل میڈیا پے ہونے والے واقعات کا نوٹس لیا ہے جہاں ججوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔اور شرمنده کیا جاتا ہے
پی ٹی اے کے ایک عہدیدار نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے قابل اعتراض مواد نہیں ہٹا سکتا لیکن صرف اس کی اطلاع دے سکتا ہے۔

جسٹس امین نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ عوام کو عدلیہ اور مسلح افواج کے خلاف اکسا رہے ہیں
عدالت نے اس معاملے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وزارت خارجہ کو نوٹسز جاری کردیئے۔
یہ  یاد  رہے کہ پاکستان میں پہلے بھی کئی دفع  youtube پر پابندی لگائی جا چکی ہے-    
ستمبر 2012 میں یوٹیوب کو پاکستان میں بلاک کردیا گیا۔
اس کی وجہ اسلام مخالف فلم اور ہمارے پیارے بنی حضرت محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کا مذاق اڑانے والی ویڈیو کو ہٹانے کا مطالبہ جب پاکستان حکومت کی طرف سے کیا گیا تو یوٹیوب  نے کوئی خاطر خواہ جواب نا دیا تو پاکستان نے youtube کی سروسز کو پاکستان میں بند کر دیا
اور اس کے ساتھ ہی پاکستان نے ہزاروں کی تعداد میں  ویب سائٹ بھی بلاک کردی جو اسلام مخالف مواد دکھا رہی تھی اس کا نتجہ یہ ہوا کہ یوٹیوب کو خود ہی گھٹنے ٹیکنے پڑے
یوٹیوب نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا تھا کہ یوٹیوب اس طرح کا مواد ہٹائے گا بھی اور پاکستان میں بھی نہیں دکھائے گا
2016میں بھی یوٹیوب پے پابندی کے بارے میں سوچا گیا لیکن مذاکرات طے پا گئے ۔
یہاں پے ایک بات سمجھنے والی ہے کہ سپریم کورٹ نے ریماکس دیئے ہیں youtube کو بند کرنے کا حکم نہیں دیا لیکن کافی یوٹیوب چینل اس کو حکم سمجھ کر عدالت اور حکومت کے خلاف ویڈیو اپ لوڈ کر رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر لوگوں نے سپریم کورٹ کی statement پڑھی ہی نہیں
2020 جولائی  بدھ کے روز سپریم کورٹ نے ریماکس د ئیے اور اس
معاملے پر اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وزارت خارجہ کو نوٹسز جاری کیا- 
کہ وہ یوٹیوب سے بات کریں کہ غیر اخلاقی ویڈیو کو ہٹانے میں پاکستان حکومت کا ساتھ دے –

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here