توفیق

prayer

لکڑی کا بوسیدہ دروازہ ہلکی سی لڑکھڑاہٹ کے ساتھ کھلا اور امام دین اپنی برسوں پرانی سائیکل  کو لے کر اندر داخل ہوا۔ ڈیڑھ مرلے کے  صحن کے ایک کونے میں اس کی بیوی رقیہ آٹا گوندھ رہی تھی۔ ساتھ ہی مٹی کے چولھے پر سالن پک رہا تھا۔ اس کے ٹھیک سامنے والے کونے سے تھوڑا سا آگے اس کی اکلوتی بیٹی بختاور ایک خستہ حال کرسی پر منھ پھلاۓ  بیٹھی تھی۔ آنکھیں خشک مگر ہلکی سرخ تھیں جیسے ابھی ابھی رونے کے شغل سے فراغت  پائی  ہو۔
امام دین نے سائیکل  رکھی اور دروازے کے ساتھ والے کونے میں لگے نل سے ہاتھ منھ دھویا اور بختاور کو مخاطب کیا:
”روتی کیوں ہے بیٹی ؟“ اس کے لہجے میں بہت محبت تھی۔ باپ کی مخصوص محبت۔ بختاور خاموش رہی اور جواب رقیہ نےدیا۔
”کہتی ہے کہ اسکول میں الوداعی تقریب ہے، نیا جوڑا بنوانا ہے۔ لو بھلا بتاؤ ۔ ہم غریبوں کے پاس کہاں اتنی گنجائش کہ روز روز   نئے  جوڑے بنواتے پھریں۔ “
”اری نیک بخت! تجھے کتنی دفعہ کہا ہے کہ مت رلایا کر میری بیٹی  کو۔ “ وہ اب تار پر لٹکے تولیے سے منھ ہاتھ پونچھ رہا تھا۔ بختاور بھاگ کر کمرے سے مونڈھا لے آئی ۔ گھڑے سے پانی نکال کر باپ کو پیش کیا۔ امام دین نے سنت کے مطابق پانی پیا۔ رقیہ اب روٹی پکانے کے لیے توا رکھ چکی تھی۔ بختاور نے اس کے پانی پیتے ہی فرمائشی  انداز اختیار کیا:

”ابا پچھلی دو عیدوں پر نیا جوڑا نہیں بنوایا۔ اس وقت پیسے نہیں تھے نا تیرے پاس۔ اب تو بنوا دے۔ پیسے ہیں نا؟ جوڑا بن جائے  گا نا؟“ امام دین کا دل کانپا۔ ہاں! کچھ لوگ ایسے بھی عیدیں مناتے ہیں۔ لیکن وہ باپ تھا۔ جیب میں اور کچھ نہ سہی، دینے کے لیے پیار بھری تسلی تو تھی۔
”تو فکر نہ کر بیٹی ! میں بندوبست کرتا ہوں۔ “
”سچ ابا!“ اس کی آنکھوں میں ستارے سے چمکے۔ امام دین نے اثبات میں سر ہلایا۔ تھوڑی دیر بعد کھانا کھا کر وہ باہر چلا گیا۔ بختاور اب کرسی پر ٹانگیں  چڑھائے  آسمان کی طرف گھور رہی تھی۔
”اللہ کی تقسیم بھی کتنی عجیب ہے نا اماں! کسی کو ضرورت پوری کرنے کے لیے ترساتا ہے اور کسی کی بے جا خواہشات بھی لمحوں میں پورا کر دیتا ہے۔ “ اس کی آواز میں یاسیت گھلی تھی۔ رقیہ چونکی۔ وہ جانتی تھی کہ اس کی بیٹی کیوں حسرت زدہ ہورہی ہے۔ اپنا موازنہ کس کے ساتھ کر رہی ہے۔ جس کمشنر کے بنگلے پر رقیہ کام کرتی تھی، اس کی بیٹی افرا جو تھی تو بختاور کی ہم عمر، مگر حیثیت میں اس سے کئی  درجے برتر۔
”اللہ بڑا عادل ہے بیٹی ! سب کو برابر تول کے دیتا ہے۔ کسی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتا۔ کسی کو اس کی اوقات سے زیادہ نہیں نوازتا۔“ وہ اپنی بیٹی کو حسرت اور مایوسی سے نکالنا چاہ رہی تھی۔
”لیکن جو اس کی نافرمانی کرتے ہیں، انھیں اتنی نعمتیں کیوں دیتا ہے؟ اور اطاعت گزاروں کو صرف صبر اور قناعت۔ “ رقیہ مسکرائی ۔ پتا نہیں آج اس کی بیٹی اتنی مایوس کیوں ہو رہی تھی۔
”پتر! جب اللہ کسی سے ناراض ہوتا ہے تو اس سے رزق نہیں چھینتا، بلکہ سجدہ کرنے کی توفیق چھین لیتا ہے۔ “ بختاور پل بھر میں شرم سار ہوئی ۔ آج اس نے اپنی ایک ہم جماعت کے ساتھ جھگڑا کیا تھا اور غصے میں اسے تھپڑ بھی مار دیا۔ نتیجتاََ وہ ظہر کی نماز نہ پڑھ سکی تھی اور عصر کا وقت یوں ہی گزرے جا رہا تھا۔ کسی کا دل دکھا کے وہ کیسے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہو پاتی۔ اس نے دل ہی دل میں اللہ سے معافی مانگی اور عصر پڑھنے کے لیے اٹھی۔
مغرب کے بعد وہ دونوں ماں بیٹی کمشنر کے بنگلے پر گئیں ۔ اس وقت فراغت ہونے کے باعث بختاور ماں کا ہاتھ بٹا دیا کرتی تھی۔ کھانا کھا کر افرا نے بختاور سے کافی بنانے کا کہا۔ اسے بختاور کے ہاتھ کی کافی پسند تھی۔ کافی بنا کر بختاور جب اس کے کمرے میں لائی  تو وہ میز پر کتابیں بکھیرے، صوفے پر بیٹھی پڑھائی  میں مصروف تھی۔ بختاور نے کپ میز پر رکھا اور جانے لیے پلٹی۔
”تیاری کیسی ہے تمھاری؟“ افرا نے جھکے سر کے ساتھ پوچھا۔
”ٹھیک ہی ہے! بس اللہ سب خیر کرے۔ “
”ٹھیک ہی ہوتی ہے تمھاری تیاری۔ پھر بھی تمھارا اے پلس گریڈ آتا ہے۔ اور مجھے دیکھو اتنی محنت کرتی ہوں ، لیکن کبھی اے گریڈ بھی نہیں آیا۔“ سر اٹھا کر وہ اسے اپنی تیاری جتا رہی تھی۔ بختاور چند لمحے خاموش رہی۔ پھر بولی:
”آپ نماز پڑھا کریں افرا بی بی! اللہ بڑی مدد کرے گا۔ “ وہ اپنے تئیں  اسے کامیابی کا راز بتا رہی تھی۔
”نماز؟ “ افرا یوں حیران ہوئی جیسے سردی کے موسم میں ٹھنڈے پانی سے نہانا پڑ گیا ہو۔ بختاور گھبرا گئی ۔ ” جی نماز!“
”او واٹ ایور نماز! میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ نمازیں پڑھوں اور دعائیں  مانگوں۔ یہ سب وہ کرتے ہیں جنہیں خود پہ بھروسہ نہیں ہوتا۔ مجھے خود پہ بھی بھروسہ ہے اور اپنی محنت پہ بھی۔ اچھا اب تم جاؤ مجھے پڑھائی  کرنی ہے۔ “
وہ غرور سے بولی۔ اپنی قابلِ قدر بات یوں رایگاں  جاتی دیکھ کر بختاور افسردہ ہوئی ۔ لیکن جب اللہ دل پر مہر لگا دے تو سمندروں کا پانی بھی دل کی سیاہی نہیں دھو سکتا۔ اس نے تو فقط نصیحت کی تھی۔
بختاور کمرے سے نکل کر اطمینان سے سیڑھیاں اتر رہی تھی۔ وہ متکبر نہ تھی کہ وہ نماز پڑھتی ہے یا عبادت کرتی ہے۔ وہ پر سکون تھی کہ دل میں صداقت ہو تو توبہ بھی قبول ہو جاتی ہے۔ کل جاکر اسے اپنی ہم جماعت سے معافی بھی مانگنا تھی کہ دل کا ملال دھل جاتا۔ بے شک اللہ ہی دلوں کو سکون اور صداقت بخشنے والا ہے۔ وہ اپنے رب کی شکر گزار تھی کہ اس نے اسے سجدوں کی توفیق عطا کر رکھی تھی۔۔

از قلم✍🏻خدیجہ تحریم

1 COMMENT

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here