مومن ہونے تک کا سفر (امبر فاطمہ)

35
مومن تک کا سفر

کیا تم حالات سے ہمت ہار کر اپنے اپ کو اس گرداب میں جھونک دو گی جس سے باہر نکلنا تمہارے لیے مشکل ہو… مہر نے آہستگی سے مصفری کو کہا میرے لیے خود کو بے دینوں میں رکھنا اس عذاب  سے ہزار درجے بہتر ہے جو میں گھر سے بھاگ کر جھیلوں گی.. مصفری نے شائستگی سے جوب دیا گھر سے بھاگ کر آخر تم جاؤ گی کہاں میری ایک دوست ہے- وہ عالمہ ، حافظہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک این جی او میں بھی کام کرتی ہے مجھے یقین ہے وہ میرا ساتھ دے گی اور اگر اس نے تمہارا ساتھ نا دیا تو مجھے میرا اللہ کبھی اکیلا نہیں چھورے گا- وہ جانتا ہے کہ میں صرف اسکے لیے اپنوں کو چھوڑ کر جا رہی ہوں-

مصفری نے نم دار آنکھوں سے مہر کو دیکھتے ہوئے کہا..! اگر دنیا میں ایک بھی شخص مجھے نہیں عزت دے گا اور نہ مجھے سنبھالے گا تو بھی مجھے یقین ہے کہ میرا اللہ مجھے اکیلا چھوڑ نہیں سکتا- مہر نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوۓ اسے تسلی دیتے ہوئے کہا کہ میری جہاں ضرورت ہو میں تمہارا  ساتھ دینے کو تیار ہوں تم نے صراط مستقیم کو چنا ہے اور اللہ خوب جانتا ہے کہ کس کو کس وقت ہدایت سے نوازنا ہے-
مصفری ایک بائیس سالہ، دنیا کو اپنے رنگ سے جینے والی اور اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر پابند لڑکی ہے- اسکی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کر کے ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہو- اسکے اسی شوق کی بناء پر اس نے چھوٹی عمر سے ہی طرح طرح کی کتابیں پڑھنے کی عادت اپنا لی- وہ. ایک قادیانی مذہب  سے تعلق رکھنے والی لڑکی تھی لیکن اس کا زہن ہمیشہ ان باتوں سے الجھ جاتا جب اسے سننے کو ملتا کہ اسکے مذہب  کو اسلام کے وسیع وعریض دائرے سے باہر نکال دیا گیا ہے وہ 1973 میں نافذ  کردہ قانون کی بالادستی کے خلاف  تھی لیکن اسکا ضمیر اسے اندر ہی اندر ملامت کرتا اور اس میں یہ تجسّس پیدا کرتا کہ وہ جس مذہب  سے تعلق رکھتی ہے آیا وہ صحیح بھی ہے یا نہیں- اور یہی وہ وجہ تھی جسکی بنا پر وہ ریسرچ کے اس دائرے میں داخل ہو گئی جو اسے اپنے  مذہب  سے نکال کر  اسلام میں داخل کر گیا- وہ چھپ کر نماز ادا کرنے لگی اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے لگی. کالج میں اسلامک سوسائٹی کی سب سے زیادہ ہونہار طالبات کی لسٹ میں شامل تھی
بے شک ہر مومن کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے اور اسے بھی اب ایک آزمائش سے گزرنا تھا-
مہر اسکی سب سے پہلی بچپن کی دوست تھی لیکن وہ اس بات سے نا واقف تھی کہ مہر اسکے سب راز ایک دن اسکے خاندان کو بتا دے گی- وہ جسے اپنا رازدار سمجھتی تھی اسی روز سب کو سچ بتا بیٹھی جس روز مصفری نے گھر سے روپوش ہو کر کسی دارالعلوم میں داخلے کے بعد وہاں جانے کا فیصلہ کیا اور گھر میں سب کو ایک قادیانی ادارے کا کہا- مصفری اپنی ساری زندگی اسی دارالعلوم میں بسر کر دینا چاہتی تھی-
مہر جب مصفری سے اسکے سب ارادے جان کر گھر سے باہر آئی  تو شکیل کی نظر میں محبت پانے کے لئے مصفری کی حقیقت سامنے لے آئی  وہ یہ بھول گئی  تھی کہ جس کو وہ اپنی دوست کا راز بتا رہی ہے وہ اس کا بھائی ہے جو قادیانی سنٹر اف دیوان نگر، سندھ کا انچارج ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اثر و رسوخ رکھنے والا عالم سمجھا جاتا ہے-

تم نے ہماری عزت، ہمارے وقار اور ہمارے نبی کی میری نظروں میں رہتے ہوئے توہین کی ہے مصفری! اسکی سزا تمہیں ضرور دی جائے گی اور سزا سنانے والا تمہارا اپنا بھائی ہو گا) شکیل نے اپنے پھولوں جیسی نازک بہن کو، جس کو کبھی وہ ڈانٹ دیتا تو خود بھی رو پڑتا ، مارتے ہوئے چیخ رہا تھا-

میں اس دین کی پیروکار نہیں بن سکتی جو نبی آخرالزماں کی بجائے کسی ملعون کو اپنا نبی مان لے حالانکہ ہمارے اسلام میں ہر جگہ اس بات کی گواہی دی گئی ہے کہ بے شک نبی صل اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری رسول ہیں انکے بعد نہ کوئی نبی آۓ گا نہ ان کی مثل.. مصفری نے ہمت سے سر تان کر اپنی سچائی کا جواب دیتے ہوئے کہا

تم ہمارے نبی کی توہین کرو اور میں خاموشی سے سنوں، یہ سوچ بھی کیسے لیا تم نے… زندہ جلنے کے لیے تیار ہو جاؤ بے مروت عورت شکیل نے مصفری پر پٹرول الٹتے ہوۓ کہا-

میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ ایک ہے اور حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم اللہ کے آخری رسول ہیں میں گواہی دیتی ہوں کہ نبی آخر الزماں حضرت محمد صل اللہ علیہ و سلم کے بعد کوئی نبی اس دنیا میں نہیں آیا اور نہ کوئی آۓ گا ماچس کی لمس کو آگ لگ ہی نہیں رہی تھی، شکیل یکے بعد دیگرے ماچس جلانے کی کوشش کر رہا تھا اسے کوئی بھی روک نہیں رہا تھا-

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (صل اللہ علیہ و سلم) لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ مصفری کی آواز کی گونج فضا کے سناٹوں پر ایک قہر بن کر اتر رہی تھی-

اچانک شکیل کے گرنے کی آواز آئی تو مصفری نے مر کر دیکھاوہاں ایک معصوم 8 سالہ بچہ ہاتھ  میں بیلچہ لیے اسے اپنے ساتھ چلنے کو بول رہا تھا-

وہ بنا کچھ سوچے اسکے ساتھ چل دی، وہ حیران تھی کہ ایک 8 سالہ بچا 35 سالہ مرد کو مارنے کا حوصلہ کیسے کر سکتا ہے وہ جانتی تھی کہ ارباز اسکا بھانجا اسکی  محبت میں اپنے ماموں کا سامنا کر سکنے کا حوصلہ رکھتا تھا

لیکن وہ جانتی تھی کہ اسکا اللہ اسے اس مصیبت سے نکال کر ایک نئے رستے کی طرف لیجا رہا ہے جس میں وہ آزادی سے اسلامی تعلیمات پر عمل کر سکتی ہے-

اللہ تعالیٰ ہر ایک کو  اپنے  بتاۓ ہوۓ راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین-
از قلم امبر فاطمہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here