گمنام ہنرمند

ورلڈ اولمپکس میں اپنا نام بنانے کی دوڑ میں لگے کچھ ایشیائی چیمپئنز ایسے بھی ہیں جن کو اپنے ہنر کو آزمانے کا موقع نہ ملا. اور کچھ ایسے کھلاڑی بھی ہیں جن کو مواقع تو ملے لیکن انہوں نے اپنے ظالم معاشرے کی تنگ نظری کا شکار ہونا پڑا. میرے تخیل کے دائرے میں تحلیل کچھ ایسی شخصیات ہیں جن کا ہنر دنیا کے گرداب میں لانا اور ان کی صلاحیتوں کو دوسروں کی نظروں میں ایک مثال کے طور پر پیش کرنا میں اپنا  فرض سمجھتی ہوں وہ ایک اعلیٰ مزاج کی عمدہ کھلاڑی تھی- وقت کی ڈوری کو اپنے ہاتھوں سے بنانے والی، سوچوں کی مشعل کو اپنے وجود سے جلانے والی اور ہر طرح کے حالات سے لڑ جانے والی-کوئی  اسے دیکھ کر رشک کرتا تو کوئی اس کو دعاؤں میں یاد رکھے ہوئے ہوتا- وہ کبھی تحصیل لیول پہ تمغات وصول کرتی تھی اور کبھی صوبائی سطح پر منعقد ہونے والے کھیلوں میں اپنا نام بنا لیتی- اسکے  مضبوط  اعضاء اسے ماؤنٹ ایورسٹ سر کر جانے کا جہاں حوصلہ اور ہمت دیتے وہاں دوسری جانب اسکے رہن سہن کے محدود دائرے اسے مزید بڑھ جانے سے روک دیا کرتے تھے-وہ ایسے ماحول میں جوان ہوئی تھی جہاں بیٹی کا سر عام قتل، محض اس وجہ  سے کر دینا کہ اس نے اپنی مرضی اور پسند کو فوقیت دی، ا یک عام سی بات تھی. وہ اپنے سکول کالج میں  اپنے شوق پورے کرنے والی خاندان کی پہلی لڑکی تھی- اسکے بھائی اور ماں باپ اسکے اس فیصلے میں اس کے ساتھ تو تھے لیکن انکی سوچ کا دائرہ اس  قدر وسیع نہ تھا کہ وہ اپنی اولاد کو اس کی خواہش کی منزل تک پہنچنے دیں اور اسکی منزل کیا تھی اس کا اندازہ سب کو اس وقت ہوا جب اس نے پاکستان لیول میں ہونے والے جیولن تھرو ٹورنامنٹ میں سلیکشن کا اعزاز حاصل کیا. پاکستان کی جانب سے پنجاب کی کھلاڑی ناعمہ رزاق وہ پہلی تیر انداز تھی جسے دنیا کے مقابلے کے لیے ایک صف میں کھڑا کیا گیا.ناعمہ کے لیے وہ دن ایسے تھا جیسے اس کی ہار جیت کا  فیصلہ آج ہی ہو گا. وہ ڈر اور خوشی کی ملی جلی کیفیت میں مبتلا تھی. اسے امید تھی کہ اسکی خوشی اور اسکے ہنر کو دیکھتے ہوئے اسے اولمپکس گیمز بھیج دیا جائے گا لیکن وہ اس حقیقت سے نا واقف تھی کہ اس کے ہنر کو ایک مزاح بنا دیا جائے گا.اور اسے اس مزاح میں ساری زندگی گھرا رہنا ہو گا. گھر میں اس قدر روشنائیاں کبھی نہ تھی جس قدر آج گھر کا سماں تھا. ناعمہ کو لگا کہ اسکے کالج سے واپسی سے قبل ہی سب کو معلوم ہو گیا ہے اور اسے خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گھر میں ہل چل ہے لیکن………………… 1 گھنٹے کے بعد اسے دلہن بنا دیا گیا اور سامنے موجود شخص اسکا وہ کوچ تھا جس کی وجہ سے وہ کبھی خود کو نکھار پائی  تھی. وہ یہ جانتا تھا کہ ناعمہ کو ورلڈ ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا ہے لیکن اس لیے کہ وہ ناعمہ کو خود سے آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا تھا اس نے سر عام اس پر الزامات کی بارش کرتے ہوئے اسے اپنا بنا لیا.ایک ہنر کا گلا اپنی خواہش کی بھینٹ چڑھا دیا اور ایک معصوم شہزادی کو سب کی نظر میں رسوا کر دیا. ورلڈ کپ کی آس کو وہ آج بھی اپنی آنکھوں میں سموۓ ہوے ہے..وہ نہیں جانتی کہ اسکی اولاد کی نظر میں وہ ایک چیمپئن بن پائے گی یا نہیں… لیکن وہ یہ ضرور جانتی ہے کہ کوئی  کہیں نہ کہیں آج بھی اسے چیمپئن سمجھتا ہو گا اور اسکا نام اپنے پیغاموں میں لیے رکھے ہو گا.

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here