جذبہ شہادت…..عظیم ماؤں کے عظیم بیٹے

jazba shahadat

حامد بیٹا سوۓ  نہیں ابھی تک؟“ امی نے بتی جلتی دیکھ کر حامد کے کمرے میں جھانکا تو وہ کرسی پر بیٹھے پڑھ رہا تھا۔
”نہیں امی جان۔ ابھی کام رہتا ہے“ اس نے مسکرا کر انھیں دیکھا۔
بیٹا یوں ساری رات جاگنا صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوتا۔ کچھ دیر سو جاتے“ان کے لہجے میں ممتا کی فکر تھی۔
”امی ! بڑی منزل پانے کے لیے تھوڑی سی نیند کی قربانی تو بنتی ہے نا۔۔“منزل کے خوش کن احساس سے اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔
”اچھا اور میرے بیٹے کی منزل کیا ہے؟“
”بس اللہ اپنی رحمت سے، آپ کی دعاٶں سے مجھے اپنے راستے میں چن لے“وہ ان کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتے ہوۓ  بولا
”اور تمھاری محنت؟“انھوں نے جیسے اسے رت جگوں کا احساس دلانا چاہا۔
”اتنی محنت کہاں کی ہے میں نے۔۔ بس یونہی تھوڑا سا“وہ جھینپا۔
”کچھ کھاؤ  گے؟“ اس کے بالوں میں ہاتھ چلاتے انھوں نے پوچھا۔
”بس ایک پیالی چائے  اماں حضور“ سر کو خم دیتا وہ ہنستے ہوۓ  بولا۔۔
چائے پینے کے بعد وہ پھر تازہ دم ہو کر پڑھائی  کرنے لگا۔۔آج اس کا آرمی سلیکشن کے لیے تحریری مقابلہ تھا۔ آج کے امتحان میں اسے ہر صورت کامیابی حاصل کرنی تھی۔ اس کا رب پر یقین اسے سرفراز کرنے والا تھا۔۔
—–

”امی! امی!“ وہ آوازیں لگاتا ہوا باورچی خانے میں آیا۔
”امی میرا داخلہ ہو گیا ہے“ ۔۔” بس کچھ ہی مہینوں میں میری ٹریننگ شروع ہوجائے  گی۔۔“اس کے سرشار ہوتے لہجے میں بہت اطمینان تھا۔
”ماشاءاللہ! ماشاءاللہ۔! ارے میرا بچہ۔ اللہ تمھیں ہر امتحان میں کامیاب کرے۔“انھوں نے اس کا ماتھا چوما۔
”امی آپ بس دعا کریں اللہ مجھے میرے اصل امتحان میں کامیاب کرے۔“اس کا چہرہ بہت روشن ہوا۔
”اصل امتحان۔؟“ سمجھ جانے کے باوجود انھوں نے پوچھا۔
”جی امی جان! اصل امتحان! میں ایک شہید فوجی کا بیٹا اور شہید فوجی کا بھائی  ہوں۔ میں اس روایت کو قائم  رکھنا چاہتا ہوں۔“ ان کا دل نہیں لرزا۔ ایثار پسند ماؤں  کے دل کبھی لرزا نہیں کرتے۔ وہ اپنا سب کچھ دھرتی پر وارنے کا حوصلہ رکھتی ہیں۔ اپنے بیٹے بھی۔
”اللہ تمھاری ہر نیک آرزو پوری کرے میرے بچے۔“ انھوں نے ایک بار پھر اس کی بلائیں  لیں۔
—–

”اور یہ سوٹ تمھارے لیے ہریرہ!“ ہریرہ کے سامنے ایک پیکٹ رکھتے ہوۓ  وہ بولا۔
”حامد بھائی  میرے لیے صرف سوٹ اور یہ آمنہ کے لیے اتنا کچھ“۔ ہریرہ نے آمنہ کی گود میں پڑے ڈھیر سارے سامان کی طرف اشارہ کیا اور برا سا منھ بنایا۔
”ہاں تو تمھیں کیا مسلہ    ہے۔؟ بھائی  مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہیں۔“ وہ ایک ایک چیز کو بڑی محبت سے چھو رہی تھی۔
”جی نہیں بھائی  تم سے محبت نہیں کرتے وہ تم سے ڈرتے ہیں ۔اگر وہ تمھارے لیے اتنا کچھ نہ لائیں  تو تم ”اتنا“ لڑو گی ان سے“ اس نے اتنا کو خاصا لمبا کر کے کہا۔
”جی نہیں فوجی کسی نے نہیں ڈرتے۔ اور حامد بھائی  بہت بہادر ہیں ۔ بلکہ ہم دونوں ہی بہت بہادر ہیں یہ تم ہی ہو جسے ہر طرف کوئی  خوف اور خطرہ لاحق رہتا ہے۔“ بہت مان سے اس نے جملے ادا کیے۔ اس بھر پور حملے پہ وہ تلملایا اور کچھ کہنے کے لیے منھ کھولا ہی تھا کہ امی بول پڑیں۔
”ارے بھائی  بس کرو تم لوگ۔ بھائی  کتنے دنوں بعد آیا ہے۔ کچھ اس سے بھی باتیں کرو آپس میں ہی لڑائی  کیے جارہے ہو۔“ وہ مصنوعی غصہ ہوئیں ۔
”امی یہ کوئی  موقع جانے ہی نہیں دیتا ہاتھ سے۔ بہت لڑاکا ہے آپ کا بیٹا۔“ وہ مزید بولتی کہ حامد نے ہاتھ اٹھا کر ٹوکا۔
”بس بس! اسی طرح تم لوگ سارا دن امی کو ستاتے ہوگے ۔ ہے نا امی؟“ اس کا لہجہ شریر ہوا۔
”نہیں میرے بچے بہت اچھے ہیں تھوڑے شرارتی ہیں مگر تنگ نہیں کرتے بالکل نہیں ستاتے۔“ انھوں نے ہریرہ کے سر پر ہلکی سی چیت لگائی ۔
”بھائی ! آپ بھی تووہاں سے اتنے ستاۓ ہوۓ آئے  ہیں۔ بڑی پریشانی ہوتی ہوگی آپ کو۔ اتنی مشکل ٹریننگ اور پھر گھر سے دور بھی۔“ اس کے انداز میں بھائی  کی محبت سمائی  ہوئی  تھی۔
”بڑی منزلوں کے مسافر چھوٹی چھوٹی مشکلوں سے نہیں گھبراتے۔ ان کا حوصلہ کبھی نہیں ٹوٹتا۔ وہ ہار نہیں مانتے۔ “ منزل کا ذکر کرتے ہوۓ  اس کے چہرے پر ایک  روشنی آئی تھی ۔ آنکھوں میں جیسے دیے جل اٹھے۔ اتنی چمک۔۔ امی نے بے اختیار اس کی سلامتی کے لیے دعا مانگی۔۔
—–

”ہاں بیٹا! تو اس جمعرات کو آ رہے ہو نا تم؟“ وہ حامد سے فون پہ بات کر رہی تھیں ۔ وہ چار ماہ سے گھر نہیں آیا تھا۔
”نہیں امی! میں نے یہی بتانے کے لیے فون کیا ہے۔ میں جمعرات کو گھر نہیں آؤں  گا۔ میں سوات جارہا ہوں امی آپریشن پہ۔ میرے لیے دعا کیجیے گا میں ناکام نہ لوٹوں۔ “ ماں سے دوری کے خیال سے اس کی آنکھیں بھیگیں۔
”اللہ تمھیں ہر میدان میں سرخرو کرے۔“ اس کے نہ آنے کا سن کر ان کا دل بہت اداس ہوا۔ مگر وہ اس کی ہمت کو کم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
”امی دشمن بہت طاقتور ہے۔ اس نے ہماری قوم کو بڑی اذیت دی ہے۔ اللہ نے مجھے موقع دیا ہے کہ میں حق کی سر بلندی کے لیے میدان میں آؤں ۔“ اس کے لہجے میں بہت کچھ کر دکھانے کا جذبہ تھا۔
”بیٹا! دشمن چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو وہ نہیں جانتا کہ سب سے بڑی طاقت تو اللہ کے پاس ہے۔ فرعونیت جتنی بھی زور آور کیوں نہ ہو وہ ڈوب جاتی ہے۔“ انھوں نے اس کی ہمت بندھائی ۔
”امی میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں ۔ بابا کے جانے کے بعد آپ نے ہر حالات میں ہمارا حوصلہ بڑھایا ہے۔ خدا سب بچوں کو آپ جیسی بہادر ماں دے“ اس نے اپنے آنسو پیے۔
”اور خدا ہر ماں کو تم جیسی اولاد دے، جس کی پہلی ترجیح یہ وطن، یہ ملت اور یہ دین ہے۔ جو اپنا سب کچھ لٹانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔“
”اپنا خیال رکھیے گا امی!“ اس نے فون بند کردیا۔
——-

”یا اللہ! بے شک ساری بادشاہت ترے ہاتھ میں ہے۔ تو ہی اس کائنات  کا اصل مالک ہے۔ یا رب آج تری دنیا میں حق پر باطل غالب آنے کو ہے۔ تو بہتر انصاف کرنے والا ہے۔ حق کو قائم و دائم  رکھ مولا۔۔“ امی سجدے میں سر رکھے سلامتی کی دعائیں  مانگ رہی تھیں۔ اپنے بیٹے سے پہلے ملک و قوم کی سلامتی کی ۔ یہ جذبہٕ ایثار ساری دنیا کے پاس نہیں ہوتا۔
”نڈر جذبوں کو سرخرو کر۔ راہبروں کو منزل عطا کر مولا! یا اللہ باطل کو کچل دے۔بےشک تیری ہی بادشاہت ہمیشہ رہنے والی ہے۔۔ یا اللہ! اس قوم کے محافظوں کی مدد فرما۔ کہ تجھ سے بہترکوئی  مدد کرنے والا نہیں۔۔“
ان کی جھکی جبیں اور بہتے آنسو  رائیگاں نہیں جائیں  گے۔

فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی تھی۔ سلام پھیر کر انھوں نے فون اٹھایا  اور سلام کیا۔۔
”کپتان حامد کے گھر سے بول رہے ہیں؟“دوسری طرف سے سلام کے جواب کے بعد کہا گیا۔
”جی! میں اس کی والدہ بات کررہی ہوں۔“ ان کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔
”مبارک ہو ماں جی! آپ کا بیٹا اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس نے شہادت جیسا عظیم رتبہ پالیا۔ آج وہ اپنے رب کی بارگاہ میں سرخرو ہو گیا۔“ دوسری جانب سے آنسو اور فخر سے ملی جلی آواز میں کہا گیا۔
”یا اللہ ترا شکر۔۔! تو نے میرے ایک اور بیٹے کو اپنے راستے میں سرخرو کیا۔۔ میرے بیٹے کی مراد پوری کر دی۔ تیرا لاکھ لاکھ شکر۔۔ “ آنکھ سے آنسو بہہ رہے تھے۔ مگر دل رب کی عنایت پہ شکر گزار تھا۔۔
——–

”میری پیاری امی جان!
میں نے اپنی زندگی کو،اپنی سانسوں کو اپنی قوم کا قرض سمجھا ہے جو مجھے ہر حال میں چکانا ہے۔ بے شک میری زندگی خدا کی نعمت ہے تو کیا میں حقِ شکر بھی نہ ادا کروں۔میں نے ہمیشہ اپنے باپ، بھائی  اور ماموں پر فخر کیا، وہ حق کے راستے میں جان کی بازی ہارے، میں نے بھی ساری زندگی اپنے لیے شہادت کی موت کو پسند کیا کیونکہ اس سے زیادہ حسین جذبہ دنیا میں نہیں“
آج آرمی کی طرف سے حامد کا سامان واپس آیا تھا۔ جس میں اس کی استعمال شدہ چیزیں، آمنہ کے لیے کچھ تحفے، ہریرہ کے لیے کچھ کتابیں اور ان سب کے علاوہ ماں جی کے نام ایک خط تھا۔ وہ دیر تک اس کی وردی کو آنکھوں سے لگا کر بیٹھی رہیں۔ اس کی خوشبو کو محسوس کرتی رہیں۔ نم آنکھوں س سے اس کی چیزیں چومتی رہیں۔ اداس مگر شکر گزار دل سے وہ اس کا خط پڑھ رہی تھیں۔
”مجھے لگتا ہے میرا بلاوا آگیا ہے۔ رب نے میری اور آپ کی دعائیں  سن لی ہیں۔ ماں میں نے عہد لیا تھا کہ میں آخری سانس تک، خون کی آخری بوند تک اور دل کی آخری دھڑکن تک اس پاک سر زمین کے دفاع کی خاطر لڑوں گا۔ وہ عہد نبھانے کا وقت آگیا ہے۔ میں کسی بھی سنگین صورت حال میں اپنے ملک و قوم کو تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ ماں میں آپ سے بہت دور جا رہا ہوں۔ اب آپ سے روزِ حشر ملاقات ہوگی۔۔ اور اس روز میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوں گا۔ میرے لیے بہت دعا کیجیے گا۔ میرے بہن بھائی  کو بھی وہی حریت کا درس دیجیے گا جو آپ نے مجھے دیا۔ جب تک آپ جیسی مائیں  زندہ ہیں میری قوم میں سے ایثار کا جذبہ اور شہادت کی لگن کبھی ختم نہیں ہو گی۔۔ اپنا بہت خیال رکھیے گا۔۔ اب إن شاءالله جنت میں ملاقات ہوگی۔۔!“
آپ کا شہید بیٹا
حامد

پلکوں پر امڈتے آنسو باہر نکلنے کے لیے بےتاب تھے۔ بھیگی آنکھوں کے ساتھ انھوں نے سر اٹھایا۔۔ دھندلایا سا منظر دکھائی  دیا کہ ہریرہ حامد کی وردی پہنے ان کے سامنے کھڑا تھا۔ حامد کی وردی پندرہ سالہ ہریرہ کو کھلی اور ڈھیلی ڈھالی سی تھی۔ لیکن اس کے چہرے کا عزم اور آنکھوں میں چمکتے سچے موتی انھیں احساس دلاگئے  کہ جب تک اس قوم میں جانثار موجود ہیں کوئی  اس دھرتی کا بال بیکا بھی نہیں کرسکتا۔ یہ زمین بنجر نہیں ہوسکتی جہاں یقین کی لڑی میں ایثار کے موتی  پروئے جاتے ہیں، جو شہیدوں کے گرم لہو سے زرخیراور  سیراب ہوتی ہے۔۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here