محبت کے اسیر

28
محبت کے اسیر

“محبت کے اسیروں کی داستاں ہے الگ سی……

کوچہ جاناں کے بہت پاس بسے اک جوگی کی کہانی آج  مجھے ایسے الفاظ لکھنے پہ مجبور کر رہی ہے جس کا دائرہ وسیع تر، الفاظ من مائل اور احساس مندمل کر سکتا ہے-
ضروری نہیں کہ ہر محبت کرنے والے کو اسکی محبّت  مل جائے کچھ لوگ اسکی آس لیے ساری زندگی اس سوچ میں گزار دیتے ہیں کہ آخر کیوں انکے سکوں کو ان سے کوسوں دور رکھا گیا ہے، مقدر میں وہ وجود کیوں نہیں لکھا گیا جسکی موجودگی، احساس اور نظر ہی بجھے دل کو جلا بخشنے کے لیے کافی ہے-

صلاح الدین میرے محلے میں رہنے والے ایک سیدھے سادھے بزرگ ہیں جن سے نا صرف بچے بلکہ بڑے بھی کترا جاتے ہیں انکی زیادہ بولنے کی عادت شاید انکے الفاظ کی تاثیر کو ٹھنڈا کر گئی ہے لیکن وہ جب بھی ہمارے گھر آتے ہیں تو مجھے انکی باتوں میں انکا درد واضح نظر آتا ہے-
محبت کے وجود میں لپٹا ایک عام سا وجود کب کس کے لیے کتنا قیمتی بن جاتا ہے کسی کو خبر تک نہیں ہوتی-
انکل صلاح الدین خوش مزاجی سے جب مجھ سے پوچھتے ہیں کہ  گڑیا!  اے   چاۓ توں بنائی  اے یا میری ملکہ نے؟؟
تو میرے دل میں ایک تجسس سا اٹھتا  ہے کہ ملکہ کیوں کہتے ہیں مجھے…
آخر کار میں نے ہمت کر کے ان سے وہ سوال پوچھ ہی لیا جسکو پوچھنے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا تھا-

انکل جی!!! آپ  نے شادی کیوں نہیں کروائی؟

پتر جی! جدوں من چاہے ساتھی بدل  جاندے  نے نا… تے کہیڑیاں شادیاں تے کتھے دیاں باراتاں-

صلاح  الدین تو چلے گئے لیکن ذہن  میں سوالات کا ایک گرداب چھوڑ گئے- یہ نقش کر گئے کہ جب محبت کے راستے پر چلا جاتا ہے نا… تو ایک پل کا بھی بدلاؤ زندگی اور زندہ موت کے کے درمیان ایک طویل سفر کا آغاز کر دیتا ہے

انکی کہانی ایک عورت کی زبان سے سنی جس نے بتایا کہ صلاح الدین اپنے دور کا ایک جانباز  کبڈی کا کھلاڑی تھا. اسکے کھیل کے چرچے نا صرف اسکے علاقے تک محدود تھے بلکہ وہ اپنے ملک میں بہت سی جگہوں پر جانا جاتا تھا- وہ اپنی ہمت اور جواں مردی  کی وجہ سے اپنا ایک الگ مقام اور نام رکھتا  تھا- اسکے اعلیٰ اخلاق کی وجہ سے اسے لوگوں میں پزیرائی بھی حاصل تھی- وقت  کی دوڑ میں آگے  نکلتا وہ ایک موڑ پر رک سا گیا جب اس نے ایک ہنستی مسکراتی لڑکی  کو اپنے ہر کھیل کے میدان میں اسکی حمایت کرتے دیکھا-
وقت گزرنے لگا اور اسکی سوچوں کا مدار وہ لڑکی بنتی چلی گئی وہ اس کے گھر بے جھجھک آنے  جانے لگا لیکن وہ اس بات سے نا واقف تھا کہ بظاہر معصومیت کا لبادہ اوڑھے وہ جس لڑکی کی محبت میں گرفتار ہے وہ حقیقت میں ایسے کئی مردوں کی صحبت لیے ہوئے ہے جن سے وہ معصومیت کی آڑ میں پیسے لے سکے- ایسے راز فاش ہوتے دیر نہیں لگتی اور جب سچ سامنے آتا ہے تو سوائے ملامت اور شرمندگی کے کچھ باقی نہیں بچتا-
زرنگار کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا لیکن اس کی رسی ایک لمبے عرصے تک کھینچ کر لمبی کر دی گئی تھی اس نے صلاح الدین کو ایک غریب گھرانے کا لڑکا کہ کر  چھوڑ دیا اور ایک وقت کے رئیس سے شادی کر لی جو عمر میں اس سے 15 سال بڑا تھا-
اس عورت نے مجھے بتایا کہ وہ لڑکی شادی کے دوسرے دن سے ہی اپنے شوہر کے مظالم کا شکار بننے لگی اسکا ہر جگہ آنا جانا بند کر دیا گیا یہاں تک کہ اسے اسکی حویلی میں ہی ایک نوکرانی سے بد تر حیثیت حاصل تھی-
آنٹی  آپ  کو صلاح الدین انکل اور زرنگار کے متعلق اتنا علم کیسے ہے؟ حالانکہ نہ صلاح الدین نے کسی کو یہ سب بتایا نہ اس لڑکی نے اسکے وضاحت ہر ایک کو دی ہو گی؟

اس عورت کے جواب نے مجھے حیران کر دیا جب اس نے کہا
وقت کا ستم اتنا گہرا بھی ہو جایا کرتا ہے کہ جس سے آپ نظر پھیرنا چاہو وہ آپکی  نظروں کا محور بن جایا کرتا ہے- اس لڑکی کی شادی وہاں ہوئی  جس کا گھر صلاح الدین کے گھر کے سامنے چار قدم پر موجود تھا-
زرنگار فرید میرا نام….. میری کہانی میری زبان سے ہی سنائی جاتی تو ہی ایک مللکہ کا وجود خاکسار ہونا تھا-

اسکے چلے جانے کے بعد مجھے سمجھ آیا کہ محبتیں کبھی مرا نہیںکرتیں  اپنی چھاپ ہر دل میں چھوڑ جایا کرتی ہیں اور کچھ لوگ ساری زندگی انہیں تعویذ بنا کر اپنے ساتھ لگاۓ رکھتے ہیں جیسے صلاح الدین نے کیا وہ آج بھی زرنگار سے محبت میں مبتلا ہے شاید اسی لیے وہ ہمارے گھر آ کر پوچھتا ہے-
گڑیا!!!!!! چاۓ تو بنائی  اے کہ میری مللکہ نے-“

از قلم
امبر فاطمہ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here