پارسا نگار

115
untold story

 مجھے اسے سمجھنے میں غلطی کیسے ہو سکتی ہے.. میں تو حالات کے مطابق خود کو پرکھنے والی لڑکی تھی- راتوں کو اللہ پاک سے اپنے لیے فیصلے کروانے والی تھی.. میں تو وہ تھی جسے خود کی پارسائی پہ اس قدر ناز تھا کہ سر عام سب کو یہ. کہتے فخر کرتی تھی کہ میری نظر تک نے آج تک کسی کا تعاقب نہیں کیا اور اگر کیا بھی ہے تو اللہ سے رو کر گڑگڑا کر معافی مانگی ہے- نگار نے خود سے سوال کرتے ہوئے پوچھا یہ کہانی ہے ایک ایسی لڑکی کی جس کے وجود کی آواز اسے برائی اور رسوائی کے دھانے سے واپس لے آئی- یہ کہانی ہے میری ایک ایسی دوست کی جس کا ضمیر اسے ہر دن یہ کہنے پہ مجبور کرتا ہے کہ جو خود سہ لیا وہ کوئی اور نہ سہے اس لیے اسکی کہانی کے سامع ہر لمحہ اسکے اردگرد موجود رہیں تا کہ وہ سب کو بتا سکے کہ دنیا کی محفلوں سے، بہتر ہے در خدا کا تم اس کو جان جاؤ جو مالک ہے سب جہاں کا آج اسکے سامنے اسکا ماضی ایک چلتی ہوئی کہانی کی طرح نظر آ رہا تھا جسکے پہلوؤں کو وہ ورق در ورق پرکھ رہی تھی- ہاں وہ آج واقعی اسے پڑھ  نہیں رہی تھی بلکہ وہ اپنی کہانی کو پرکھنے پہ مجبور تھی – ہر لمحے کی وضاحت وہ خود کو دے رہی تھی- نہیں اور ہاں کے درمیان تعلق کو جوڑنے کی کوشش میں مصروف تھی اچانک سے اسکی سوچ کا دائرہ ایک بات پہ آ کر رک سا گیا اسے لگا اسے اندر تک جھنجھوڑ دیا گیا ہے اور تم اللہ کی بنائی ہوئی حدود کو پار نہ کرو- اگر ایسا کرو گے تو بے شک اللہ ہر چیز سے بے نیاز ہے اللہ نے اسے اپنی بے نیازی دکھا دی تھی- وہ ایک وقت میں ہر رشتے ہر شخص کے آگے بے جان بت بنی کھڑی تھی وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ سب کو اس بات کا یقین کیسے دلاۓ کہ وہ اس قدر علط نہیں ہے جس قدر اسے بنا دیا گیا ہے وہ کیسے سب کو اس بات کی وضاحت دے کہ اسکا وجود کسی دھوکے کا شکار ہو گیا تھا اور وہ پنی اس نادانی سے پشیمان ہے اللہ تو سب جانتا ہے نا… میں نے تو اپنا آپ ہر جگہ اسکے سپرد کیا تھا میں نے اس سے ہر بار کہا تھا اے اللہ! میں نہیں جانتی کہ کیا درست ہے اور کیا غلط تو سب جانتا ہے میرے ساتھ وہ کر دے جس میں میری خوشی بھی ہو اور تیری رضا بھی اور تمہیں تمہارا پروردگار اتنا دےگا کہ تم راضی ہو جاؤ گے (الضحی) وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ یہ آیت کیوں ہر بار اسکے آنکھوں کے سامنے گھوم جاتی تھی اسے کچھ وقت درکار تھا یہ سب سمجھنے کے لیے اور شاید اب وہ وقت آ گیا تھا اب وہ سمجھ گئ تھی کہ ہاں!! اسکا پروردگار سب کر سکتا ہے- نگار ایک معصوم، بھولی بھالی اپنی ہی دنیا کی مستی میں بھرپور معمولی سی لڑکی تھی جسے دنیا کی رنگینیوں کی چاہ کبھی نہیں تھی- وہ ہر مرد سے گبھراتی تھی یہ سوچ کر کہ کوئی چاہنے نہ لگے وہ پردے کی پابند اور حیا کی روا دار ایک چھوٹی عمر کی پارسا لڑکی تھی لیکن کوئی کسی کی نطر سے کیسے بچ سکا ہے آج تک… کب کوئی کسی کو چاہنے لگے، کب کوئی کسی کو پرکھنے لگے اس بات سے واقف کیسے ہو سکتا ہے- اسے بھی کسی کی نظروں کے تعاقب میں آتے دیر نہیں لگی تھی…… حوس کے پجاری پاکیزگی کا دعویٰ کرتے ایک طریقے سے آگے بڑھتے ہیں اور نگار کے ساتھ بھی یہ دھوکہ ہوا تھا. وہ پاکیزگی کے راستے میں چلتی اپنی حدود کو کھونے لگی تھی- اسکا دل اسے ہر دن روکتا تھا لیکن اپنی زبان سے کیے وعدوں کی آڑ میں وہ خاموشی سے سب کرتی گئی وہ کبھی راتوں کو دیر تک اس سے فون پر رابطہ رکھتی اور کبھی سب سے چوری وہ سر راہ اسے ملا کرتی لیکن اس سب کے باوجود ایک حد تھی جس سے تجاوز کرنے کا وہ سوچتے ہوئے بھی رو دیتی تھی- وہ جانتی تھی کہ جتنا بھی کسی کو چاہ لیا جائے اللہ کی بنائی ہوئی حد کو پار کرنا، رسوائی کی طرف پہلا قدم ہو گا- وہ کبھی خود کو پرکھتی تو اسے لگتا تھا کہ جس محبت کا میں دعویٰ کرتی ہوں وہ میں آسانی سے چھوڑ سکتی ہوں کسی کی ہمدردی میں اس نے خود کو ایک گرداب میں جکڑ لیا تھا جس سے وہ نکلنا بھی چاہتی تھی لیکن……….. کچھ تھا جو اسے غلط صحیح میں فرق بھلا رہا تھا… کچھ عرصے بعد وہ جان گئی تھی کہ جادوئی علم کی طاقت اسے اس کے راستے سے الگ کر رہی ہے اور اس راستے پر چلتے چلتے وہ بھول گئی  ہے کہ اسکی ذات  کے ساتھ اسکے خاندان کی عزت کا لبادہ چڑھا  ہے پھر ایک دن وہ جب حد سے تجاوز کرنے لگی تو اللہ نے اسے دکھا دیا کہ اللہ کے سپرد جب خود کو کر دیا جائے تو وہ اپنے بندے کا ہاتھ نہیں چھوڑتا اور اللہ جانتا تھا کہ نگار غلط نہیں تھی اسے غلط بنانے کی کوشش کی گئی تھی اسلیے اللہ نے اسے صاف سچا بنا دیا آج  وہ اللہ کی بارگاہ میں بیٹھ کر روتے ہوئے اپنی نادانی اور اسکی مہربانی کے اوصاف گن رہی تھی وہ آج خوش تھی.. کیونکہ آج اسے دنیا کے رنگوں میں الجھے ہر چہرے سے نقاب اترا نظر آ گیا تھا اور اسے وہ عطا کر دیا گیا تھا جسکی خواہش کو وہ ایک لمبے عرصے سے دل میں بساۓ بیٹھی تھی وہ آج خوش تھی کیونکہ اس کا وجود آج  رسوا  ہونے سے بچ گیا تھا وہ رسوائی کے دھانے سے پاک اور سچی ہو کے واپس نکل آئی تھی چھوٹی عمر میں ہی اس نے دنیا کے رنگ دیکھ لیے تھے اور شاید یہ ضروری بھی تھا تا کہ وہ خود کو پارسائی کی تصویر سمجھتے تکبر کے دائرے میں داخل ہونے سے بچ جائے..

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here